سری نگر، یکم مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کے پونچھ میں کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پیر کو پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔فائرنگ میں ہندوستان کے دو جوان شہید ہو گئے اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔آرمی کی ناردن کمانڈ نے بتایا کہ پاکستان نے بی ایس ایف پیٹرولنگ ٹیم پر حملہ کیا اور شہید جوانوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی۔اپریل میں ایل او سی کے قریب پونچھ اور راجوری سیکٹر میں سات بار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی جانب سے پونچھ سیکٹر میں صبح 8.30بجے راکٹ لانچر اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، اس میں نائب صوبے دار پرمجیت سنگھ اور بی ایس ایف کے سربراہ کانسٹیبل پریم ساگر شہید ہو گئے،بی ایس ایف کے راجندر سنگھ زخمی ہو گئے۔4/اپریل کو پاکستان کی جانب سے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ اور مارٹرداغے گئے تھے۔اس کے بعد آرمی کو پیشگی چوکی پر تعینات کیا گیا تھا۔3/اپریل کو بھی راجوری ضلع کے بالاکوٹ سیکٹر میں تقریبا 11بجے اور دگوار علاقہ میں صبح 9بجے پاکستان کی جانب سے فائرنگ گئی تھی، دگوار میں بھاری مارٹر سے فائرنگ کی گئی تھی۔یکم اپریل کو پونچھ میں ہی ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او)آئی ای ڈی دھماکے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔2016میں ایل او سی کے قریب 228اور بین الاقوامی سرحد پر 221بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔19/مارچ کو پونچھ کے بھمبر گلی علاقہ میں پاکستان کی جانب سے ایل او سی سے ملحقہ علاقوں میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔13/مارچ کو پاکستانی فوج نے پونچھ سیکٹر میں مارٹر سے فائرنگ کی تھی۔12/مارچ کو پونچھ کے کرشنا گھاٹی اور چکن دے باغ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔وہیں، 9/مارچ کو پونچھ میں پاکستان کی جانب سے بھاری فائرنگ کی وجہ سے آرمی جوان دیپک گھاٹگے شہید ہو گئے تھے۔دوسری طرف پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوا نے کہا کہ ان کا ملک اور آرمی کشمیریوں کی سیاسی جنگ میں مدد کرتے رہیں گے۔باجوا نے اتوار کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کیا تھا۔اس دوران انہوں نے پاکستانی فوج سے ملاقات بھی کی۔باجوا نے اس کے بعد فوجیوں کے سامنے تقریر بھی کی تھی۔انہوں نے ہندوستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایاتھا۔باجوا نے فوجیوں سے کہا تھا کہ سرحد پر آپ کو کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔انہون نے کہا تھا کہ ہندوستان کشمیر میں ملکی اسپانسر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کی سیاسی جنگ کو پہلے کی طرح اپنا تعاوہ دینا جاری رکھے گا۔